نئی دہلی/دیوریا،7؍اگست (ایس او نیوز؍ ایجنسیز) بہارکے مظفرپور گرلس شیلٹر معاملے کی گونج ابھی تھمی نہیں تھی کہ یوپی کے ضلع دیوریا میں اسی طرح کا ایک سیکس ریکٹ کا پردہ فاش ہوا ہے جہاں سے 24 خواتین اوربچوں کو آزاد کرالیا گیا ہے جب کہ کئی لڑکیاں ابھی بھی غائب ہیں جن کی تلاش جاری ہیں ۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پی کنے نے بتایا کہ صدر کوتوالی علاقے میں خواتین کی تربیت اور سماجی خدمت کے نام پر چلائے جانے والے ماں سندھیا واسنی گرلز شیلٹر کی منظوری پر حکومت نے روک لگادی تھی۔اس کے بعد بھی اس ادارے میں لڑکیوں اور بچوں نیز خواتین کو غیر قانونی طور پر رکھا جاتا تھا۔ اتوار کی شب بیتیا بہار کی ایک لڑکی اس شیلٹر سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی جس نے پولیس کو اس شیلٹر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے بارے میں بتایا۔ جس کے بعد پولیس نے یہ کارروائی انجام دی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ یہاں رہنے والی15سے18سال کی لڑکیوں سے جسم فروشی کرائی جارہی تھی۔ اس معاملے کا پردہ فاش ہونے پر پولیس نے شیلٹر سے24خواتین اور بچوں کو آزاد کرالیا ہے ۔ ادارے کو سیل کرکے ان کے منتظم گریجا ترپاٹھی اور اس کے شوہر موہن ترپاٹھی کوگرفتار کرلیا گیا ہے ۔ ادارے کی سربراہ کنچن لتا موقع سے فرار ہے ۔ اس سلسلے میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے معاملے کی جانچ کی جارہی ہے ۔مسٹر کنے نے بتایا کہ اس مبینہ ادارے میں 42خواتین اور بچوں کے رہنے کی اطلاع تھی جن میں18بچے ، خواتین اور لڑکیاں لاپتہ بتائی جارہی ہیں۔ پولیس ان کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے ۔
بہار کے مظفرپور آبروریزی معاملہ میں ملزموں کو بچانے اور ثبوت کو ختم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ممبروں نے وقفہ صفر کے دوران لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور حکومت کی طرف سے غیر جانبدار جانچ کا یقین دلائے جانے کے باوجود پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرگئے ۔وقفہ صفر کی کارروائی ختم ہوتے ہی کانگریس اور آر جے ڈی کے اراکین مظفر پور کے ایک لڑکیوں کے شیلٹرمیں40بچیوں کے ساتھ آبروریزی کے معاملے کو اٹھانے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے ۔
لوک سبھا اسپیکر محترمہ سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ ضروری کاغذات پیش کئے جانے کے بعد وقفہ صفر میں انہیں اس کی اجازت دیں گے ۔وقفہ صفر ہونے پر انہوں نے کانگریس کی رنجیت رنجن اور آر جے ڈی کے جے پرکاش نارائن یادو کو اس پر بولنے بھی دیا۔لیکن دونوں پارٹیوں کے اراکین وزیر داخلہ سے بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے آگئے ۔ رنجیت رنجن نے اسپیکر کے ڈیسک پر سے کتاب نیچے پھینک دی۔ انہوں نے لوک سبھا جنرل سکریٹری کی ڈیسک پر سے بھی کچھ کتابیں نیچے گرادیں۔ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر مہاجن نے12:20پر پارلیمنٹ کی کارروائی10منٹ کے لئے ملتوی کردی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی کانگریس اور آر جے ڈی کا ہنگامہ جاری رہا۔ اسپیکر نے کہا کہ معاملہ حساس ہے اور سی بی آئی کی جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اس لئے ہر مرتبہ وزیر داخلہ بیاں دیں یہ ضروری نہیں ہے ۔
اس درمیان پارلیمانی معاملوں کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ اس معاملے یں وزیر داخلہ پہلے بیان دے چکے ہیں اور سی بی آئی جانچ کا حکم دیا جاچکا ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ سی بی آئی جانچ پوری طرح غیر جانبدار ہوگی۔ رکن پارلیمان نے جو بھی نئی بات کہی ہے اسے وزیر داخلہ تک پہنچا دیا جائے گا۔ لیکن ان کے جواب سے غیر مطمئن کانگریس اور آر جے ڈی کے ممبروں پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرگئے ۔اس سے قبل رنجیت رنجن نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے بھلے ہی معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دے دیا ہے لیکن جب ثبوت ہی تباہ کردیئے جائیں گے تو ملزموں کو سزا کیسے ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کے اہم گواہ جسے مدھوبنی کے لڑکیوں کے شیلٹر ہوم بھیج دیا گیا تھا وہ وہاں سے لاپتہ ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیلٹرہوم چلانے والی غیر سرکاری تنظیم نے قبول کیا ہے کہ وہ بچی غائب ہے ۔کانگریس رکن پارلیمان نے الزام لگایا کہ ابتدا سے ہی معاملے کے سارے ثبوت تباہ کئے جارہے ہیں۔ اس سال28مارچ کو معاملہ سامنے آیا اور31مئی کو ایف آئی آر درج ہوئی۔ متاثرین کی میڈیکل جانچ8جون کو ہی ہوگئی تھی، لیکن پولیس کو رپورٹ20جولائی کو بھیجی گئی۔
راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان مسٹر یادونے بھی ثبوت مٹانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ متاثر لڑکیوں کو بھی بدلا جارہا ہے ۔ دیگر اراکین پارلیمان نے بھی اس معاملے پر کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی۔دریں اثناء پٹنہ ہائی کورٹ نے آج ریاستی حکومت کی یہ درخواست منظور کرلی کہ وہ بہار کے مظفر پور میں ایک شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کی عصمت دری کے معاملے کی سی بی آئی انکوائری کی نگرانی کرے ۔
چیف جسٹس راجندر مینن اور جسٹس راجیو رنجن پرساد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بہار کے مظفر پور میں ایک شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کی عصمت دری کے معاملے کی سی بی آئی سے کرائی جانے والی انکوائری کی نگرانی کرنے کی ریاستی حکومت کی درخواست منظور کرلی ۔ عدالت نے ملزمین کو حتی الامکان جلد سے جلد کم وقت میں سزا دینے کے لئے ایک فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے کی ریاستی حکومت کی درخواست بھی منظور کرلی ۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو اس سلسلے میں ایک نوٹس بھیجا ہے اور حکم دیا کہ معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ دو ہفتہ بعد مقرر کی جائے ۔